دنیا بھر میں عالمی ذیابیطس دن منایا جارہا ہے،مرض سے کیسے بچا جائے

نئی دہلی: آج 14نومبر کو عالمی پیمانے پر یوم ذیابیطس منایا جا رہا ہے۔یوم ذیابیطس 1991میں انٹرنیشنل ڈائبٹس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے شروع کیا تھا۔شوگر کے مرض سے عوام الناس کو خبردار کرنے اور ان سے بچنے کے راستے اور علاج و پرہیز بتانے کے لیے ان دونوں تنظیموں نے یوم ذیابیطس منانا شروع کیا تھا۔ہر سال ایک نئے موضوع کے ساتھ یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس ال خواتین اور ذیابیطس کے عنوان سے یہ دن منایا جا رہا ہے۔
اس مرض کے، جسے شکری اور شوگر بھی کہا جاتا ہے، تدارک کے لیے کئی مشورے دیے گئے ہیں۔ جن میں سب سے اہم ایسی تغذیہ بخش غذا ہے جس میں فربہی مائل چکنائی نہ ہو ، شوگر کے مرض کو روکنے یا خطرہ کم سے کم کرتی ہیں۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ فائبر غذا لینے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ بلڈ شوگر کی سطح معتدل رہے۔
اس کے لیے ورزش کرنے بھی کہا جاتا ہے تاکہ جسم پوری طرح متحرک رہے اور شوگر کا ظرہ کم سے کم رہے۔کیونکہ اس سے وزن کم ہوگا اور انسولین کی مقدار بہتر اور بلڈ شوگر کی سطح کم ہوگی۔زہنی دباؤ سے آزد رہیںکیونکہ ذہنی تناؤ جتنا بڑھے گا خون میں شکر کی سطح بھی اتنی ہی بڑھے گی۔شراب نوشی نہ کی جائے اور سگریٹ بھی نہ پی جائے کیونکہ دھواں اڑانے والوں اور سگریٹ نہ پینے والوں میں یہ فرق دیکھنے میں آیا ہے کہ جو لوگ سگریٹ پیتے ان میں تمباکو نوشی والوں نہ کرنے والوں کے مقابلہ میں شوگر کا مرض ہونے کا 50فیصد خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔سگریٹ نوشی ترک کر کے شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ذیابیطس سے عموماً مراد شکری ذیابیطس ہی ہوتا ہے۔ تاہم، ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں جن میں سب سے عام سادہ ذیابیطس ہے، جس میں کثرت سے پتلا پیشاب خارج ہوتا ہے۔ سادہ ذیابیطس گردے یا غدہنخامیہ کے باعث ہوتا ہے۔ذیابیطس کی پہلی قسم غدہ حلوہ یا لبلبہ میں موجود بیٹا خلیات کی خرابی ہے جس سے انسولین کی مقدار میں کمی واقع ہوجاتی ہے. بیٹا خلیات میں خرابی ت خلیات کا خود مناعی حملہ ہے۔پہلی قسم کا اصل علاج انسولین کا جسم میں ادخال اور دموی شکر کی سطح کی نگرانی ہے۔ انسولین کی عدم موجودگی سے بعض اوقات شکری تیزابی دمویت لاحق ہوجاتی ہے جو کوما یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔اب علاج میں غذا اور جسمانی مشق کو بھی شامل کرلیا گیا ہے، تاہم یہ بیماری کی پیش رفت کو الٹ نہیں سکتے۔ ذیابیطس کی دوسری قسم انسولین کے خلاف مدافعت یا حسّاسیت اور انسولین کا کم اخراج ہے۔
جسمانی بافتوں کا انسولین کیلئے استجاب میں زیادہ تر خلوی جھلی میں موجود انسولین حاصلہ کارفرما ہوتا ہے. بیماری کے اوّلین مراحل میں، انسولین کیلئے استجابیت کم اور خون میں انسولین کی مقدار وافر ہوجاتی ہے۔ اِس صورتحال میں کئی ایسے اقدام اٹھائے جاسکتے ہیں جس سے انسولین کیلئے استجابیت زیادہ یا لبلبہ کا پیدا شدہ انسولین کی مقدار میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔جیسے جیسے بیماریبڑھتی ہے، انسولین کی مقدار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، اور بالآخر انسولین کو طبّی طور پر جایگزینی کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔
حملی ذیابیطس کئی باتوں میں ذیابیطس کی دوسری قسم سے مشابہت رکھتا ہے۔اِس میں انسولین کی قدرے کم اخراج اور استجابیت شامل ہیں۔یہ تمام میں سے تقریباً 2 سے 5 فیصد حملات میں واقع ہوتا ہے، اور بچے کی پیدائش کے بعد بڑھتا یا غائب ہوجاتا ہے۔حملی ذیابیطس مکمل قابلِ علاج ہے، تاہم حمل کے کل دورانیے میں محتاط طبّی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کے زیرِ اثر خواتین میں سے 20 تا 50 فیصد خواتین بعد میں ذیابیطس کی دوسری قسم کا شکار ہوجاتی ہیں۔

Title: world diabetes daye tips to take control and lower the risk of developing diabetes | In Category: صحت  ( health )
Tags: