امراض قلب سے کیسے بچا جا سکتا ہے

نئی دہلی:(یو این آئی) ہندستان سمیت پوری دنیا میںآج ”یوم قلب“ منا یا جارہا ہے جس کا بنیادی مقصد دل کی بیماریوں اور دل کا دورہ پڑنے کے تعلق سے بیداری عام کرناہے۔ اس محاذ پر تما م تر کامیابیوں کے باوجود ہندوستان میں آج بھی زائد از 80 فیصد لوگ ایسے کھانے شوق سے کھاتے ہیں جن کی بے پناہ لذت دل اور زندگی دونوں کی صحت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ آٓٓٓج کے موقع کے حوالے سے ایک جائزے میں بتا یا گیا ہے کہ 83 فی صد ہندستانیوں کو صحت سے زیادہ لذیذ ترین کھانے پسند ہیں۔
80 فیصد لوگ کام کے لمبے اوقات کی وجہ سے قلب کے عارضات پال لیتے اور 76 فیصد لوگ ملازمت سے تعلق رکھنے والے تناؤ کا شکار ہوکر دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ، لکھنو، حیدر آباد اور چنئی میں 1306 لوگوں سے رابطہ کرنے پر 74 فیصد نے بتا یا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صحت بخش کھانے لذیذ نہیں ہوتے۔اسی فیصد میں لوگوں نے نیند کی کمی کی بات کی،72 فی صد نے گھریلو جھگڑوں کا ذکر کیا،69 فیصد وہ لوگ نظر آئے جو جو موبائیل اور ٹیبلیٹ پر زیادہ زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔68 فیصد لمبی مسافتوں اور اتنی ہی فیصد نے ایکسر سائز کی جگہ اور سہولت کی قلت / فقدان کی شکایت کی۔ 81 فی صد عورتوں نے کہا کہ گھر کے کام کاج سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ کہ کچھ اور کیا جائے۔ ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے اخذ کردہ نتائج کے مطابق امراض قلب اور دل کا دورہ پڑنے کے واقعات دنیا بھر میں اموات کے اسباب میں سر فہرست ہیں۔ہر سال ایسی اموات کی تعداد کوئی ایک کروڑ 71 لاکھ ہے۔یعنی کینسر، ایچ آئی وی اور ایڈز سے زیادہ عارضہ ہائے دل سے اموات ہوتی ہیں۔ آج کا دن تمباکو نوشی چھوڑنے، ایکسرسائز کرنے اور صحت بخش کھانا کھانے کا لوگوں سے عہد لینے کا بھی ایک اہم موقع فراہم کر تا ہے۔
اگر آپ اپنے دل کے بارے میں اہم اور بنیادی چیزیں جاننا چاہتے ہیں جو دھڑکن رواں رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔تو وہ حسب ذیل ہیں۔ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند دل کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔جسمانی وزن کا دل سے گہرا تعلق ہے یعنی اگر خواتین کی کمر 40 اور مردوں کی 45 انچ سے زیادہ ہونے سے ان میں دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ہنسی سے بھی دل کا گہرا رشتہ ہے۔ہمارا جسم ہنسنے پر تناؤ کا سبب بننے والے ہارمون کی شرح کو کم کردیتا ہے، جب تناو کم ہوتا ہے تو بلڈ پریشر بھی نیچے آ جاتا ہے، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دل کے دورے کا خطرہ ہنسنے ہنسانے والے لوگوں کے مقابلے میں تنا ؤکا شکار رہنے پر والوں میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔ طب کے حوالے سے ثابت ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کی حالت پر قابو پانے میں اسپرین سے فوری مدد ملتی ہے۔دل کا دورہ عام طور پر اس وقت پڑتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریانوں میں خون کی گردش میں کولیسٹرول کی وجہ سے خلل پڑتا ہے۔
ایسے موقع پر اسپرین اس رکاوٹ کو دور کرکے زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ نیند میں خراٹوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔یہ دل کے مسائل کا سبب یا ان میں اضافہ کرسکتے ہیں، خراٹوں کے باعث سانسیں ڈسٹرب رہتی ہیں۔ موٹاپے کا شکار لوگوں کے لیے تو خراٹے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کے دورے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ نمک ویسے تو ہر غذا کا لازمی حصہ ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے و امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، اپنی خوراک میں نمک کی مقدار میں کچھ کمی کرکے آپ اپنی زندگیوں کو بچاسکتے ہیں۔ آٓٓخر میں یہ بھی واضح رہے کہ دل کے ٹوٹنے کے سبب بھی آپ زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں؟ اپنے کسی پیارے کی موت پرزیادہ غمزدہ لوگوں کو بھی دل کے دورہ پڑنے کا خطرہ 21 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔میر نے یونہی نہیں کہا کہ “الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا، دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا” ان سب کے باوجود دل کو صحتمند رکھنے کے طریقوں اور جواز کی کمی نہیں۔ہر حال میں ہمیشہ پرامید رہنے کی کوشش کریں۔ایسے لوگوں کو دل کا دورہ بہت ہی کم پڑتا ہے۔ امریکہ کے ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق منفی ذہنی حالت جیسے ڈپریشن، غصہ اور تنہائی کا احساس دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔تنہائی سے ہمیشہ بچیں اس کی عادت ہرگز نہ ڈالیں۔ویانا کی میڈیکل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق کسی سے قربت اور اس کی نگہداشت بلڈپریشر، تناو اور خوف جیسے امراض سے بچاتی ہے جو دل کی صحت کیے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

Title: this talisman can save you from heart attack | In Category: صحت  ( health )
Tags: