ذہنی تناؤ سے چھٹکار پانے کے لیے اب ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں

واشنگٹن:ہم سبھی روزمرہ کی زندگی میں الگ الگ طرح کے ذہنی تناؤ کا سامنا کرتے ہیں اور ایسے میں ذہن میں مایوسی کے خیالات آنے اور ذہن بھٹکنے کا مسئلہ بہت عام ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب اس طرح کے مسائل حل کرنے کے لئے ماہر نفسیات کی پناہ میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ محض دس منٹ ”دھیان “ اس سے نجات دلاسکتا ہے۔ کناڈا کی واٹر لو یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے بتایا ہے کہ روز محض دس منٹ کے دھیان سے بار بار آنے والے مایوس کن خیالات پر لگام لگائی جاسکتی ہے۔
اس سے ذہن بھٹکنے کی صورت حال سے بھی نجات مل جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تناؤ کو لے کر بیداری پھیلانے سے بھی اس سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔ واٹرلو یونیورسٹی کے محقق مینگراں شو نے کہا کہ ہمارے نتائج سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ دھیان سے تناؤ میں مبتلا لوگوں کے خیالات کے بھٹکاؤ کے رجحان پر بندش لگے گی۔ اس سے وہ ذہنی فکرات سے باہر نکل کر باہری دنیا کی ہلچلوں پر دھیان مرکوز کرپاتے ہیں جس سے وہ اپنے کام کو بہتر طریقہ سے انجام دے پاتے ہیں۔
کشیدگی میں مبتلا 82 لوگوں پر کی گئی تحقیق کے تحت کچھ لوگوں کو کمپوٹر پر کام کرنے کہا گیا تھا جس میں پایا گیا کہ اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے کی ان کی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔ اس کے بعد محققین نے تمام لوگوں کو دو گروپوں میں بانٹ دیا اور ایک گروپ کو کہانی سننے کو اور دوسرے گروپ کو تھوڑے عرصہ کے لئے دھیان لگانے کو کہا۔ دھیان لگانے والے گروپ نے بہتر مظاہرہ کیا ۔

Title: ten minutes concentration enough to get rid of tension | In Category: صحت  ( health )