پالک کے پتوں کے ریشوں سے دل کے مریضوں کو زندگی مل سکتی ہے

دہلی : پالک کے پتے کے ریشوں کو دل کی دھڑکن برقرار رکھنے میں معاونت کرنے والے خلیوں میں تبدیل کرنے کی ایک سائنسی کوشش کامیاب ہو گئی ہے۔ اس کوشش سے انسانی دلوں کے متاثرہ اعضاء اور خلیوں کی پیوند کاری اور انہیں فعال بنانے کے تجربہ کو کامیابی کی جانب گویا ایک سمت مل گئی ہے۔ امریکہ میں وورسسٹر پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کے سائنسدانوں کی اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل بائیو میٹریلز میں شائع ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس محاذ پر سب سے بڑا مسئلہ رگوں کے نیٹ ورک کا نہ ہونا ہے جس کے بغیر بیشتر ٹشوز مردہ ہوجاتے تھے۔ اس انسٹیٹوٹ کے سائنسدانوں نے اس طرح ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کی مدد سےپالک کے پتے کے نسوں کو دل کے عضلات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ابھی سب کچھ کامیابی کے ابتدائی مر حلے میں ہے۔ نتائج حوصلہ افزا ہیں اس لئے امید کی جاتی ہے کہ تجربہ کار گر ثابت ہو گا اور اس طرح دل کے معالجین کو عاضہ ہائے دل خاص طور پر ان مریضوں کے بہتر علاج میں مدد ملے گی جو دل کا دورہ پڑنے کی تاب لا کر بقید حیات ہیں۔
اس طرح پالککے پتوں کے ذریعہ دل کے صحت مند عضلات کی جڑوں کی سائنسی آبیاری میں مدد ملے گی۔ مطبوعہ نتائج کے مطابق محققین کی ٹیم نے مختلف تجربات میں پالک کے پتوں کو ایک ڈیٹرجنٹ سلوشن میں بھگویا تاکہ تمام نباتاتی خلیات صاف ہوجائیں، جس کے بعد اسے ایسے سیال اور مائیکرو بیڈز میں ڈبویا گیا جو کہ انسانی خون کے خلیات کے حجم کے برابر تھے اور اس طرح انسانی خلیات کو پالک کی رگوں میں پہنچا دیا گیا۔نتیجے میں ایسا ٹشو تیار ہوگیا جو کہ دل کے عضلات کا ہو بہو تھا۔قبل ازیں تھری ڈی پرنٹنگ اور دیگر طریقوں سے خون کی شریانوں کے پیچیدہ نیٹ ورک کی تخلیق میں سائنس دانوں کو کوئی ایسی کامیابی نہیں ملی تھی جس کی بنیاد پر کسی امکانی رخ پر مزید پیش رفت ہو سکتی۔ لیکن اس کامیابی نے جس میں انسانوں پر اس کے تجربے میں اب بھی کئی برس لگ سکتے ہیں، سائنس دانوں کے حوصلوں کو تازہ دم کر دیا ہے۔

Title: scientists create spinach heart tissue to solve heart problems | In Category: صحت  ( health )
Tags: ,