بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر نے کینسر کے علاج کے لئے رام پتری نام کی دوا تیار کی

ممبئی: جوہری توانائی کے مختلف تجربات کے ذریعے ملک کی خدمت میں لگے بھابھا آٹومک ریسرچ سنٹر(بارک)نے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک آیوروید نسخہ تیار کیا ہے جو پھیپھڑوں اور جلد کے کینسر کے لیے بہت موثر ثابت ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس سنٹرنے ایٹمی حادثے کی صورت میں تابکاری کے شکار مریضوں کے علاج کے لئے بھی ایک دوا تیار کی ہے۔ بایوآرگینک شعبہ میں بارک سائنس داں وی ایس پاترو نے یہاںیواین آئی کو بتا یا کہ بارک میں تقریبا تین دہائیوں سے آیوردید ادویات سے کینسر کے علاج کے لیے لے کر تحقیق کا کام چل رہا ہے۔
کینسر سے متعلق دو اہم ادویات تلاش کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک دوا ئیموتھیراپی کے ضمنی اثرات اور متعلقہ پریشانیوں کو کم کرنے کے لئے ہے اور دوسری دوا ریڈیوتھیراپی کے ذیلی اثرات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا میں پہلی بار کھانے والی گولی کی شکل میں کینسر کی دوائیں تیار کی گئیں ہیں۔ ان تمام ادویات کی قیمت بہت معمولی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پھیپھڑوں اور جلد کے کینسر کے علاج کے لیے عام طور پر بہ کثرت ملنے والی جھاڑی رامپتری سے ایک دوا تیار کی گئی ہے جو ابتدائی مرحلے کے کینسر کے معاملے میںکیموتھیراپی کی ضرورت کو نہ ہونے کے برابر کردے گی اور ایڈوانس اسٹیج کے کینسر میں کیموتھیراپی کے ضمنی اثرات جیسے بال جھڑنا، کھانے میں دقت ہونا، قے ہونا وغیرہ کو بہت حد تک ختم کر دے گی۔
رامپتری کے ہزاروں مالیکولس میں سے کچھ مالیکولس بہت مفید پائے گئے ہیں۔ بارک لیبارٹری میں ان مالیکولس کو نکال کر دوائیاں بارک کیموتھیراپسٹی تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوا سے جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور کینسر کے علاج کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے. مریض کی تکلیف بھی کافی کم ہو جاتی ہے۔

Title: barc develops herbal drug rampatri to treat cancer | In Category: صحت  ( health )