آواز کھاناچبا نے کی آواز کا کسی کو گراں گزرنا ایک ذہنی عارضہ : سائنسی تحقیق

نئی دہلی: ایک روسی کہاوت کی طرح کہ آپ ناراض ہیں، تو آپ ہی قصوروار ہیں‘ اب ایک سائنسی تحقیقی میں بھی بتا یا گیا ہے کہ اگر بعض آوازیں مثلاً کسی کا با آواز کھا نا چبانا اگر آپ کو غصہ دلاتا ہے تو یہ ایک ذہنی عارضہ ہے۔ نیوکیسل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کچھ لوگوں کے دماغ آوازوں کی حساسیت کے حوالے سے دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں اور مخصوص آوازیں ان کے اندر غصہ یا دیگر جذبات کو متحرک کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ ایک ذہنی عارضہ ہے جس میں کسی دوست کے ہاتھوں میں موجود بال پین کے بٹن کو بار بار دبانا بھی طبعیت پر گراں گزرتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئی۔
محققین نے اسے مسو فونیا ( misophonia) کا نام دیاہے یعنی آواز سے نفرت۔ ایسے عارضے میں مبتلا لوگوں کو کھاتے وقت کسی کے چبانے کی آواز، بال پین کلک، پیروں کو فرش سے ٹکرانے یا کسی اور طرح کی آواز پر شدید کوفت اور منفی جذبات کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران چالیس سے زیادہ لوگوں پر تجربات کیے گئے جن میں سے بیس میسو فونیا کے شکار تھے اور انہیں مختلف آوازیں سنا کر ایم آر آئی ٹیسٹ کیے گئے۔دونوں گروپس کے نتائج بہت مختلف تھے اور میسوفونیا کے شکار افراد کا آوازوں پر ردعمل ہٹ کر تھا۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد کے دماغ کے ان حصوں میں ابنارمل کنکشنز نظر آئے جو کہ معلومات اور جذبات کا تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ ان کے دل کی دھڑکن بھی بڑھی اور پسینہ آنے لگا۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ واقعی ایک مرض ہے جسے پہلے طبی دنیا میں اہمیت نہیں دی جاتی تھی مگر ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آوازیں کچھ لوگوں کے دماغ میں تبدیلی لاتی ہیں۔

Title: misophonia when chewing other everyday sounds enrage you | In Category: صحت  ( health )