ایشیا اور یورپ میں شوگر کا مرض وبائی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے

نئی دہلی: دنیا بھر میں خصوصاً ایشیا، یوروپی خطہ میں زیابیطس کے بڑھتے ہوئے معاملات انتہائی باعث تشویش ہیں اور اسے کم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کئے جانے چاہیں۔ وزارت خارجہ میں آسیان امور کی نگرانی کرنے والے ایک افسر نے یہ بات کہی ہے۔ یہاں گذشتہ دنوں ذیابیطس کی تشخیص اور علاج پر ایشیا یوروپ میٹنگ (asem) سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ میںجوائنٹ سیکریٹری پوجا کپور نے کہا کہ ”ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال پر ہونے والا خرچ بہت زیادہ ہوتا ہے اور ساری دنیا میں اس میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کا مالیات پر برا اثر پڑرہا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر اس کا بوجھبے تحاشہ پڑرہا ہے۔
غریب لوگوں کو اپنی آمدنی کا 25 سے 35 فیصد ذیابیطس کی دیکھ بھال پر صرف کرنا پڑتا ہے یہ لوگ بھی اکثر سب سے زیادہ متاثرہ ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے اعداد و شمار کے حوالے سے افسر نے کہا کہ کم آمدنی والے ممالک میں اس بیماری میں مبتلا بالغوں کی تعداد جو 2010 میں34.4 کروڑ تھی جو 2020 میں بڑھ کر 47.2 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ذیابیطس میں مبتلا آبادی کا 60 فیصد حصہ ایشیا میں ہے۔ ایشیائی خواتین میں gestational ذیابیطس کا بڑھتا رجحان زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری میں ہونے والی ذیابیطس کی بیماری اور بھی زیادہ پریشان کن ہے اس سے صحت و علاج کے نظام پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے قبل از وقت موت کا خطرہ رہتا ہے۔ اندر اندر انسان کو کھا جانے والے اس مرض سے نمٹنے کے لئے حکومت نے جو مختلف اقدام کئے ہیں ان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کینسر، ذیابیطس، عارضہ قلب اور فالج سے بچاؤ اور کنٹرول کے لئے قومی پروگرام شروع کیا ہے۔
اس پروگرام میں دیگر باتوں کے علاوہ شروع میں ہی مرض کی تشخیص اور بچاؤ پر توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سطحوں پر اس کے علاج روک تھام اور عملہ کی تربیت پر دھیان دیا جائے گا۔ مسز کپور نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اگر طرز زندگی کو بدل کر یعنی غذا اور ورزش کے ذریعہ اس سے بچا جا سکتا ہے۔ مطالعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دو دہائیوں کے عرصہ میں طرز زندگی میں تبدیلی لاکر ذیابیطس کے معاملوں میں 43 فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں جن افراد میں یہ مرض بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے ان کے لئے جدید ترین تکنالوجی استعمال کی جاتی ہے اس کے لئے آپریشن بھی کیاجاتا ہے تاکہ مرض کو خطرناک بننے سے روکا جا سکے۔ asem کا ایجنڈا خطہ میں صحت کے مسائل سے نمٹنے میں کافی اہم رول ادا کرے گا۔ ذیابیطس اور دیگر کئی بیماریاں معیشت کی ترقی میں روکاوٹ بن رہی ہیں۔ اگر ان بیماریوں پر قابو پاکر انہیں کم کیا جائے تو معیشت کو فائدہ ہوگا۔

Title: diabetes rising in asia europe region mea official | In Category: صحت  ( health )